Friday, 1 March 2019

Moen Jo daro

*موہنجو داڑو یورپ کو گفٹ کر دیں*
*جاوید چوہدری*

موہنجو داڑو دنیا کا پہلا میٹرو پولیٹن‘ میگا اور پلینڈ سٹی تھا‘ یہ دو ہزار چھ سو قبل مسیح (یعنی ساڑھے چار ہزار سال) میں بھی موجودتھا‘ ہم اگر اہرام مصر کے بعد کسی انسانی شاہکار کو عجوبہ کہہ سکتے ہیں تو وہ موہنجو داڑو ہوگا اور میں ہفتے کی دوپہر وہاں پہنچ گیا‘ میں آدھی سے زائد دنیا دیکھ چکا ہوں‘ صرف موہنجو داڑو بچا تھا چنانچہ میں نے جمعہ کی شام سکھر کی فلائیٹ لی‘ رات سکھر میں قیام کیا اور ہفتے کی دوپہر موہنجو داڑو پہنچ گیا‘ یہ سکھر سے 80 اور لاڑکانہ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے‘

شہر گیارہ ہزار ایکڑ پر مشتمل تھا‘ اس کا صرف 10 فیصد حصہ کھود کر نکالا گیا اور یہ 10 فیصد بھی 1922ءسے

1933ء کے دوران انگریز آرکیالوجسٹ نے نکالا جبکہ ہم نے پچھلے 86 برسوں میں ان آثار میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں کیا‘ یہ شہر کتنا اہم تھا آپ اس کا اندازہ چند حقیقتوں سے لگا لیجئے‘ دنیا میں تین قدیم ترین تہذیبیں ہیں‘ دریائے نیل‘ میسوپوٹیمیا اور دریائے سندھ کی تہذیبیں‘ دریائے نیل نے مصر کی تہذیب کو جنم دیا ‘ میسو پوٹیمیا نے دو دریاﺅں دجلہ اور فرات کے درمیان جنم لیا‘
یہ دونوں دریا ترکی سے نکلتے ہیں اور یہ ایران‘شام اور عراق سے بے شمار علاقوں کو سمیٹ کر خلیج فارس میں جا گرتے ہیں‘ ان دونوں دریاﺅں کے درمیان کی زمین میسو پوٹیمیا کہلاتی تھی اور تیسری اہم ترین تہذیب انڈس (دریائے سندھ) کی تہذیب تھی‘ باقی ساری دنیا نے ان تینوں تہذیبوں کے بطن سے جنم لیااور موہنجو داڑو انڈس سولائزیشن کا قدیم ترین میٹرو پولیٹن شہر تھا‘ یہ دنیا کا پہلا شہر تھا جس کی تمام گلیاں سیدھی اور کھلی تھیں‘ جس میںانسان نے پانی کا پہلا تالاب بنایا‘

جس میں پہلی بار پبلک ٹوائلٹ‘ پبلک باتھ‘ سیوریج سسٹم اور کچرہ کنڈی بنائی گئی‘ جس میں نالیوں کا جال تھا اور تمام نالیاں اوپر سے بند تھیں‘ جس میں تاریخ میں پہلی بار گلیزڈ ٹائلزاور پہلی بار تارکول استعمال کی گئی‘ جس میں پہلا کالج بنایا گیا‘ جس میں عوامی کنوئیں کھودے گئے‘ جس میں باقاعدہ سرونٹ کوارٹرز اور مارکیٹ بنائی گئی اور جس میں امیر‘ مڈل اور لیبر کلاس تین طبقوں کو الگ الگ آباد کیا گیا‘ یہ تلوار کی ایجاد سے بھی پہلے کا شہر تھا اور میں اس وقت اس شہر میں تھا جسے تہذیب اور تاریخ گزرے وقت کی آخری یادگار قرار دیتی ہے‘ جو آرکیالوجی اور تہذیبی دریافت کا قبلہ ہے۔

موہنجو داڑو کے پانچ حصے ہیں‘ڈی کے کا ایریا کے این ڈکشٹ نے 1922ء سے 1933ء کے درمیان دریافت کیا تھا‘ یہ امراء کا علاقہ تھا‘ گھر بڑے اور دو منزلہ تھے‘ نچلی منزل میں کچن‘ باتھ روم ‘ کنواں اور مہمان خانہ ہوتا تھا ‘ رہائش دوسری منزل پر ہوتی تھی‘ پانی کو آلودگی سے بچانے کےلئے کنوئیں کے اوپر بھی چھت ڈالی جاتی تھی‘ باتھ روم کی ڈرینج کےلئے گلیزڈ ٹائلیں استعمال کی جاتی تھیں‘ یہ ٹائلیں آج بھی چکنی ہیں‘ گھروں میں ہوا کی کراسنگ کا بندوبست تھا‘ چھتیں اونچی اور فرش پکے تھے‘

گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کےلئے بیرونی دیواروں پر مٹی کا لیپ کیا جاتا تھا‘ ان لوگوں نے جپسم‘ چونے کا پتھر‘ ہڈیوں کا برادہ اور گوند ملا کر سیمنٹ بنالیا تھا‘ دیواروں کی چنائی میں یہ سیمنٹ استعمال ہوتا تھا‘ یہ تارکول بھی استعمال کرتے تھے‘ شہر میں 8 بائی 23 فٹ کا تالاب تھا‘ تالاب کے پیندے میں باقاعدہ تارکول کا لیپ کیا گیا تھا‘ میں نے گائیڈ سے عرض کیا برصغیر میں تارکول نہیں پایا جاتا‘ گائیڈ نے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا یہ لوگ اومان (مسقط) سے تارکول درآمد کرتے تھے‘

ان کے سکے اور برتن اومان‘ مصر اور میسوپوٹیمیا تینوں جگہوں سے ملے ہیں‘ یہ سکے ثابت کرتے ہیں یہ لوگ مصنوعات وہاں سے منگواتے تھے‘ کالج کے ساتھ بڑا کنواں تھا اور کنوئیں کے ساتھ گھڑے رکھنے کا چبوترا تھا‘ یہ ثابت کرتا ہے یہ لوگ گھڑے بھر کر چبوترے پر رکھ دیتے تھے تاکہ طالب علم استعمال کر سکیں‘ پبلک ٹوائلٹس بھی ساتھ تھے‘ یہ گھڑے وہاں بھی استعمال ہوتے ہوں گے‘ دس فیصد دریافت شدہ علاقے میں سات سو کنوئیں اور 80 پبلک ٹوائلٹس ہیں‘

آپ اس سے ان کی صفائی پسندی‘ سولائزیشن اور ماڈرن ہونے کا اندازہ کر لیجئے‘ ہم آج کے دور میں بھی لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں 80 پبلک ٹوائلٹس نہیں بنا سکے جبکہ موہنجو داڑو کے دس فیصد ایریا میں سات سو کنوئیں اور 80 پبلک ٹوائلٹس تھے اوریہ گھروں کے اندر موجود ٹوائلٹس کے علاوہ ہیں‘ اٹیچ باتھ کا یہ تصور میسو پوٹیمیا اور مصری تہذیب میں نہیں ملتا‘ شہر میں اناج گھر بھی تھا اور اس سے ساڑھے چار ہزار سال پرانی گندم بھی ملی‘ ڈی کے ایریا کے بعد ایچ آر کا علاقہ تھا‘

یہ علاقہ ہیرالڈ ہرگریوز  نے 1924-25ءمیں دریافت کیا تھا اور یہ مزدوروں کا علاقہ تھا‘ اس سے اینٹیں بنانے کے آلات اور دوسرے اوزار بھی ملے اور 14 مزدوروں کے اجتماعی ڈھانچے بھی‘ یہ لوگ کاٹن

No comments:

Post a Comment